نئی دہلی، 23 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جموں و کشمیر مسئلے پر ثالثی کی پیشکش پر ایک طرف پورے ملک میں ناراض ہے تو جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ نے اس کے برعکس رویہ دکھایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ جب پی ایم مودی نے ٹرمپ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ کشمیر کا مسئلہ پیچیدہ ہے اور یہ اچھی بات ہوگی، اگر اس کو حل کرنے میں کوئی مدد ملتی ہے۔یہی نہیں فاروق نے کہا کہ میں مودی جی کو مبارکباد دیتا ہوں،وہ خود چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کسی بھی چیز کا استعمال کیا جائے، جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی کا مسئلہ ہے۔بتا دیں کہ امریکی صدر ڈونالڈر ٹرمپ نے پیر کی رات کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران یہ دعوی کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان سے کشمیر مسئلے پر ثالثی کا مطالبہ کیا ہے،اگرچہ ٹرمپ کے اس دعوے پر ہنگامہ ہونے اور ہندوستان کی تردید کے بعد امریکی حکومت بیک فٹ پرہے۔